مکمل پاکستان کے چیئرمین محمد عبدالمتین ہاشمی صاحب نے اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حالیہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا کھلی دہشت گردی اور عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک 112 افراد شہید اور 800 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ بیروت سمیت مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ یہ حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسرائیل نہ صرف جنگ بندی کی پاسداری نہیں کر رہا بلکہ خطے کے امن کو دانستہ طور پر سبوتاژ کر رہا ہے۔
چیئرمین مکمل پاکستان نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے بیروت، وادی بقاع اور جنوبی لبنان میں 100 سے زائد مقامات کو نشانہ بنانا ایک منظم عسکری کارروائی ہے، جس کا مقصد پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہونا اور عوام سے خون کے عطیات کی اپیل اس انسانی المیے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے اسرائیلی اپوزیشن رہنما Yair Lapid کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خود اسرائیل کے اندر سے یہ آواز اٹھ رہی ہے کہ وزیراعظم Benjamin Netanyahu اپنے اہداف میں ناکام ہو چکے ہیں اور ان کی پالیسیوں نے اسرائیل کو سیاسی و اسٹریٹجک نقصان پہنچایا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل کی موجودہ قیادت نہ صرف خطے بلکہ اپنے ملک کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود حملے جاری رکھنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسرائیل عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور انسانی اقدار کو خاطر میں نہیں لا رہا۔ یہ طرز عمل نہ صرف لبنان بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کو ایک نئی تباہی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر نوٹس لے اور اسرائیل کی اس کھلی جارحیت کو روکے۔ اگر آج اس طرز عمل کو نہ روکا گیا تو کل دنیا کا کوئی بھی خطہ اس آگ سے محفوظ نہیں رہے گا۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ مکمل پاکستان پارٹی مظلوم عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر اس اقدام کی حمایت کرے گی جو خطے میں امن، انصاف اور انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے







