مکمل پاکستان پارٹی کے چیئرمین محمد عبدالمتین ہاشمی صاحب نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی ایک اہم پیش رفت ہے، جس میں پاکستان کا کردار ایک ذمہ دار اور متوازن ریاست کے طور پر سامنے آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیئن کی جانب سے پاکستان کی ثالثی کو سراہنا اس بات کا واضح عالمی اعتراف ہے کہ پاکستان نے اس نازک مرحلے پر امن کے قیام میں مؤثر کردار ادا کیا۔ عالمی میڈیا اور سفارتی حلقے بھی اس امر کی تصدیق کر رہے ہیں کہ پاکستان نے متوازن سفارتکاری کے ذریعے دونوں فریقین کے درمیان پل کا کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس کشیدگی کے دوران ایران کو نمایاں جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا، جہاں تقریباً 2 ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور 26 ہزار سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ معیشت اور انفراسٹرکچر کو بھی بھاری نقصان پہنچا۔ اسی طرح عالمی سطح پر بھی اثرات سامنے آئے اور خام تیل کی قیمتیں 110 سے 115 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اس تمام صورتحال میں اصولی اور متوازن مؤقف اپنایا اور خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کیا، جس کے باعث اسے ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے یومِ تشکر منانا ایک مثبت قدم ہے، تاہم اس کامیابی کو مستقل پالیسی میں تبدیل کرنا زیادہ ضروری ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حالات سے بہتر انداز میں نمٹا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، اور ایران کے ساتھ ہونے والے جانی نقصان اور تباہی کے حوالے سے عالمی سطح پر انصاف اور مؤثر اقدامات ہونے چاہئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی معیشت کو مضبوط بنانے پر توجہ دینی چاہیے، دوست ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے چاہئیں، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے چاہئیں اور قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے واضح حکمت عملی اپنانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی کو معاشی استحکام کے ساتھ جوڑنا ہوگا تاکہ ملک ایک مضبوط اور خود کفیل ریاست کے طور پر آگے بڑھ سکے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 15 فیصد کمی آ چکی ہے، جس کے بعد پاکستان میں بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا امکان ہے۔ اطلاعات کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 50 سے 55 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 90 سے 100 روپے تک کمی ممکن ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر اس کمی کا فائدہ عوام تک منتقل کرے تاکہ مہنگائی میں کمی آئے اور عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔







